Subscribe - Get updates via Email

Archive


Ghalib tomb


لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور
تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور

مٹ جائےگا سَر ،گر، ترا پتھر نہ گھِسے گا
ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور


آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ ‘جاؤں؟
مانا کہ ھمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور

جاتے ہوئے کہتے ہو ‘قیامت کو ملیں گے
کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور


ہاں اے فلکِ پیر! جواں تھا ابھی عارف
کیا تیرا بگڑ تا جو نہ مرتا کوئی دن اور


تم ماهِ شبِ چار دہم تھے مرے گھر کے
پھر کیوں نہ رہا گھر کا وه نقشا کوئی دن اور

تم کون سے ایسے تھے کھرے داد و ستد کے
کرتا ملکُ الموت تقاضا کوئی دن اور


مجھ سے تمہیں نفرت سہی، نیر سے لڑائی
بچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور

گزری نہ بہرحال یہ مدت خوش و ناخوش
کرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور

ناداں ہو جو کہتے ہو کہ ‘کیوں جیتے ہیں غالبؔ 
قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور







اے روشنئ دیده شہاب الدیں خاں
کٹتا ہے بتاؤ کس طرح سے رَمَضاں؟
ہوتی ہے تراویح سے فرصت کب تک
سُنتے ہو تراویح میں کتنا قرآں






ہم گر چہ بنے سلام کرنے والے
کرتے ہیں دِرنگ ، کام کرنے والے
کہتے ہیں کہیں خدا سے ، لله لله
وُه آپ ہیں صُبح و شام کرنے والے






اِس رشتے میں لاکھ تار ہوں ، بلکہ سِوا
اِتنے ہی برس شُمار ہوں ، بلکہ سِوا
ہر سیکڑے کو ایک گره فرض کریں
ایسی گرہیں ہزار ہوں ، بلکہ سِوا








حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے
تا شاه شیوعِ دانش و داد کرے
یہ جو دی گئی ہے رشتۂ عمر میں گانٹھ
ہے صِ فر کہ افزائشِ اعداد کرے






بھیجی ہے جو مجھ کو شاهِ جَمِ جاه نے دال
ہے لُطف و عنایات شہنشاهِ پہ دال
یہ شاه پسند دال بے بحث و جِدال
ہے دولت و دین و دانش و داد کی دال







ہے خَلقِ حسد قماش لڑنے کے لئے
وحشت کدۀ تلاش لڑنے کے لئے
یعنی ہر بار صُورتِ کاغذِ باد
ملتے ہیں یہ بدمعاش لڑنے کے لئے





دل تھا ، کہ جو جانِ دردِ تمہید سہی
بیتابئ رشک و حسرتِ دید سہی
ہم اور فُسُردن اے تجلی افسوس
تکرار روا نہیں تو تجدید سہی







سامانِ خور و خواب کہاں سے لاؤں ؟
آرام کے اسباب کہاں سے لاؤں ؟
روزه مِرا اِیمان ہے غالبؔ ! لیکن
خَسخانہ و برفاب کہاں سے لاؤں ؟







کہتے ہیں کہ اب وه مَردُم آزار نہیں
عُشّاق کی پُرسش سے اُسے عار نہیں
جو ہاتھ کہ ظلم سے اٹھایا ہوگا
کیونکر مانوں کہ اُس میں تلوار نہیں






ہیں شہ میں صفاتِ ذوالجلالی باہم
آثارِ جلالی و جمالی باہم
ہوں شاد نہ کیوں سافل و عالی باہم
ہے اب کے شبِ قدر و دِ والی باہم





مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل
سُن سُن کے اسے سخنورانِ کامل
آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمائش
گویم مشکل و گر نگویم مشکل






بعد از اِتمامِ بزمِ عیدِ اطفال
ایّامِ جوانی رہے ساغرکَ ش حال
آپہنچے ہیں تا سوادِ اقلیم عدم
اے عُمرِ گُذشتہ یک قدم استقبال





آتشبازی ہے جیسے شغلِ اطفال
ہے سوزِجگر کا بھی اسی طور کا حال
تھا مُوجدِ عشق بھی قیامت کوئی
لڑکوں کے لئے گیا ہے کیا کھیل نکال    




دکھ جی کے پسند ہوگیا ہے غالبؔ
دل رُک رُک کر بند ہوگیا ہے غالبؔ
ولله کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں
سونا سَوگند ہوگیا ہے غالبؔ







دل سخت نژند ہوگیا ہے گویا
اُس سے گِلہ مند ہوگیا ہے گویا
پَر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں
غالبؔ منہ بند ہوگیا ہے گویا








شب  زُلف  و رُخِ  عَرَق  فِشاں  کا  غم  تھا
کیا  شرح  کروں  کہ  طُرفہ  تَر  عالَم  تھا
رویا  میں  ہزار  آنکھ  سے  صُبح  تلک
ہر  قطرۀ  اشک  دیدۀ  پُر نَم  تھا



   
نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
شوخئِ نیرنگ، صیدِ وحشتِ طاؤس ہے
دام، سبزے میں ہے پروازِ چمن تسخیر کا
لذّتِ ایجادِ ناز، افسونِ عرضِ ذوقِ قتل
نعل آتش میں ہے، تیغِ یار سے نخچیر کا
کاؤکاوِ  سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا
جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا
خشت پشتِ دستِ عجز و قالب آغوشِ وداع
پُر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا
وحشتِ خوابِ عدم شورِ تماشا ہے اسدؔ
جو مزه  جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا
بس کہ ہوں غالبؔ ، اسیری میں بھی آتش ز یِر پا
موئے آتش دیده ہے حلقہ مری زنجیر کا









نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈُ بویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ہُوا جب غم سے یوں بے حِس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
ہوئی مدت کہ غالبؔ مرگیا، پر یاد آتا ہے
وه ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا










غزل 
رہِ خزاں میں تلاشِ بہار کرتے رہے
شبِ سیہ سے طلب حسنِ یار کرتے رہے

خیالِ یار، کبھی ذکرِ یار کرتے رہے
اسی متاع پہ ہم روزگار کرتے رہے

نہیں شکایتِ ہجراں کہ اس وسیلے سے
ہم اُن سے رشتہء دل استوار کرتے رہے

وہ دن کہ کوئی بھی جب وجہِ انتظار نہ تھی
ہم اُن میں تیرا سوا انتظار کرتے رہے

ہم اپنے راز پہ نازاں تھے ، شرمسار نہ تھے
ہر ایک سے سخنِ‌ رازدار کرتے رہے

ضیائے بزمِ جہاں بار بار ماند ہوئی
حدیثِ شعلہ رخاں بار بار کرتے رہے

انہیں کے فیض سے بازارِ عقل روشن ہے
جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے

جناح ہسپتال، کراچی 21 اگست 53ء




دیکھ کر خود کی پیاس تنہائی 
ھو گئی بد حواس تنہائی

آکے پہلو میں بیٹھ جاتی ھے
سہمی سہمی اداس تنہائی

میز پر پھر سجالئے ھم نے
یادیں' چہرے' گلاس ' تنہائی

اپنی زلفیں بکھیرے آئی تھی
رات کو
میرے پاس تنہائی

میں بھی خوش ھوں اکیلے پن سے اب
آگئی مجھ کو راس تنہائی





Ghalib Legends of ghazal


دل ہی تو ے نہ سنگ و خشِت درد سے بھر نہ آئے کیوں ؟
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے   کیوں ؟



  اے میحبوب ہمارا دل کوئی اینٹ  پھتر تو نہیں کے کچھ اثر نہ ہو، تم   یوں ستائو اور درد سے بھر نہ آئے۔ ہم تو 
  ہزار بار روئیں گے کوئی کیو ہمارا دل دکھائے۔



ہاں    وہ   نہیں   خدا   پر  ست   جائو   وہ    بیوفا   سہی،
جس کو   ہو   دِین  و  دل  عزیز   اُ س   کی   گلی   میں   جائے     کیوں ؟


میرا  محبوب   نہ    خدا        پرست   ے  نہ   ہی  وفادار،    مگر   جس   کو   اپنا   دل  اور   دین   پیارا    ہو    وہ    اس   کی  گلی  میں   ہرگز   نہ جائے۔ ۪۪( گلی  میں  جانا    یعنی   دل   لگانا )    جہاں  دل  اور  دین  دونوں برباد ہوگے۔ 

       
غالبِ خستہ  بغیر کون سے کام بند ہیں   
روئیے زار زار کیا؟ کیجئے ہاے ہاے کیوں؟

بدحال غالب کے مرجانے سے دنیا کے کام بند نہیں ہوگے اس لئیے اس کی موت پر رونا   اور  ہاے ہاے کرنا فضول ہے۔



Danish was born in Kandhla, a small town in the Muzaffarnagar district of Uttar Pradesh, India. He belonged to a poor family and he could not continue his study due to financial reasons but still learned the Arabic and Persian languages on his own. Later he migrated to Lahore and settled there permanently. He struggled very hard to earn his living. He worked as an ordinary labourer for years in odd jobs, finally becoming a poet of excellence. His autobiography, Jahan-i-Danish, is a classic and has inspired many people. Danish has written more than 80 books and hundreds of articles about and including poetry, prose, linguistics, philology, autobiographies and the famous interpretation of "Diwan-e-Ghalib". Much of his literary work is still unpublished.Tamgha-e-Imtiaz, received March 22, 1978 from the government of Pakistan.He died on March 22, 1982 in Lahore, Pakistan