Here are some little-known facts about the greatest legend of our time, Jagjit Singh.

1. Jagjit Singh's father wanted him to become a bureaucrat by joining the Indian Administrative Services.
2. He had six siblings: four sisters and two brothers.
3. In his initial days in Mumbai, Jagjit Singh used to make a living by composing jingles and performances at weddings.


4. His only son Vivek died in a car crash in the year 1990. At that time he was only 21 years of age. This had a permanent shattering effect on him and his wife.
5. Jagjit Singh's wife Chitra Singh gave up singing after the tragic incident and 'Someone Somewhere' was the last album that the duo recorded together.

6. It was Jagjit Singh who started the practice of paying lyricists a part of an album's earnings.



7. Not from a well-off family, Jagjit Singh, as a child, used to study by the light of lanterns as there was no electricity in the house. Singh stated that they even lacked the facility of running water.
8. In 1987, Jagjit Singh became the first Indian Musician to record a purely digital CD album, titled 'Beyond Time'. 
9. Famous Bollywood playback singer Kumar Sanu was offered his first break by Jagjit Singh.
10. The tickets for Jagjit Singh's concert "Live at Royal Albert Hall" in 1982 were sold out in three hours




Ghalib tomb


لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور
تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور

مٹ جائےگا سَر ،گر، ترا پتھر نہ گھِسے گا
ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور


آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ ‘جاؤں؟
مانا کہ ھمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور

جاتے ہوئے کہتے ہو ‘قیامت کو ملیں گے
کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور


ہاں اے فلکِ پیر! جواں تھا ابھی عارف
کیا تیرا بگڑ تا جو نہ مرتا کوئی دن اور


تم ماهِ شبِ چار دہم تھے مرے گھر کے
پھر کیوں نہ رہا گھر کا وه نقشا کوئی دن اور

تم کون سے ایسے تھے کھرے داد و ستد کے
کرتا ملکُ الموت تقاضا کوئی دن اور


مجھ سے تمہیں نفرت سہی، نیر سے لڑائی
بچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور

گزری نہ بہرحال یہ مدت خوش و ناخوش
کرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور

ناداں ہو جو کہتے ہو کہ ‘کیوں جیتے ہیں غالبؔ 
قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور


اے روشنئ دیده شہاب الدیں خاں
کٹتا ہے بتاؤ کس طرح سے رَمَضاں؟
ہوتی ہے تراویح سے فرصت کب تک
سُنتے ہو تراویح میں کتنا قرآں


ہم گر چہ بنے سلام کرنے والے
کرتے ہیں دِرنگ ، کام کرنے والے
کہتے ہیں کہیں خدا سے ، لله لله
وُه آپ ہیں صُبح و شام کرنے والے



اِس رشتے میں لاکھ تار ہوں ، بلکہ سِوا
اِتنے ہی برس شُمار ہوں ، بلکہ سِوا
ہر سیکڑے کو ایک گره فرض کریں
ایسی گرہیں ہزار ہوں ، بلکہ سِوا



حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے
تا شاه شیوعِ دانش و داد کرے
یہ جو دی گئی ہے رشتۂ عمر میں گانٹھ
ہے صِ فر کہ افزائشِ اعداد کرے