ملکہ پلے بیک سنگنگ لتا منگیشکر مہدی حسن کی بہت بڑی مداح تھیں اور انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ ’’شری مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتے ہیں ‘‘ لیکن شائد یہ کوئی نہیں جانتا کہ انہوں نے کون سا گیت سن کر یہ تاریخی جملہ کہا تھا ۔لتا منگیشکر نے فلم ’’ڈھول جانی ‘‘ کا گیت ’’ہائے وے میری واری چھیتی کیوں نئیں بولدا ‘‘ سن کر کہا تھا کہ مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتے ہیں ۔شہنشاہ غزل کا تعلق موسیقی کے ’’کلاونت ‘‘ گھرانے سے تھا اور ان کا خاندان سولہ پشتوں سے موسیقی کے پیشے سے وابستہ ہے ۔انہوں نے عملی زندگی کا آغاز سائیکل مرمت کرنے کے پیشے سے کیا اور بعد موٹر مکینک بن گئے ،اس دوران گائیکی کی ریاضت کا عمل بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا ۔مہدی حسن کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ایک باقاعدہ پہلوان بھی تھے ، بلاناغہ کثرت کرتے تھے اور کافی خوش خوراک بھی تھے ۔انہوں نے تندرستی کے دور میں ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ ان کی خوراک چھ لٹر دودھ ،تین کلو گوشت اور تین پاؤ دیسی گھی پر مشتمل تھی ۔ کثرت اور ریاضت نے انہیں اس مقام پر پہنچا دیا کہ گائیکی کے اکھاڑے میں کوئی ان کا سامنا نہ کر سکا ۔ مہدی حسن کے ایک قریبی دوست اور موٹر مکینک سعید بٹ بتاتے ہیں کہ وہ صرف غزل کے ہی نہیں بلکہ انجن مرمت کے بھی شہنشاہ تھے ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مہدی حسن جب ان کی ورکشاپ پر آتے تو باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ کوئی پرزہ بھی مرمت کر جاتے تھے ۔لتا منگیشکر جیسی عظیم گلوکارہ آج بھی اکثر اپنی زندگی کی سب سے بڑی حسرت کا اظہار کرتی ہیں کہ انہیں مہدی حسن کے ساتھ گانے کا موقع نہیں مل سکا ۔لتا نے اپنی اس خواہش کی تکمیل مہدی حسن کے گائے ہوئے گیت ’’تیرا ملنا بڑا اچھا لگے ‘‘ میں اپنی آواز شامل کر کے کی ۔ معروف کالم نگار اور دنیا نیوز کے انٹرٹینمنٹ ایڈیٹر طاہر سرور میر نے 1996میں گفتگو کے دوران شہنشاہ قوالی استاد نصرت فتح علی خاں سے پوچھا کہ آپکی نظر میں دنیا میں سب سے سریلی آواز کس کی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ مہدی حسن کی ۔نصرت فتح علی خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پوری دنیا کی موسیقی سنی ہے لیکن مہدی حسن سے زیادہ سریلی آواز کہیں نہیں سنی ۔ مہدی حسن اپنی زندگی میں جتنی بار بھی بھارت گئے ، بالی ووڈ کے تمام سپر سٹارز ان کا استقبال کرنے ائیر پورٹ پر گئے ۔ان کے مداحوں میں دلیپ کمار ، امیتابھ بچن ، منوج کمار ،دیو آنند ، راج کپور ،محمد رفیع ، کشور کمار لتا منگیشکر اور اس دور کے تمام بڑے اداکار اور گلوکار تو شامل تھے لیکن وہ بالی ووڈ کے موجودہ سٹارز میں بھی اتنے ہی مقبول ہیں۔دستاویزی پروگرام ’’گہر ہونے تک ‘‘ میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے شاہد کپور ،شرمن جوشی ،بھومن ایرانی ، پریانکا چوپڑا ،نیہا دھوپیا مہدی حسن کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں ۔مہدی حسن پیدا بھی بھارت میں ہی ہوئے تھے اور ساری زندگی انہیں بھارت میں پلکوں پر بٹھایا گیا لیکن ان کی پاکستان سے محبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی پاکستان کے لئے وقف کررکھی تھی ۔یہ بات شائید ہی کوئی جانتا ہو کہ بھارت کے صوبہ راجستھان کی صوبائی حکومت نے بھرپور کوشش کی تھی کہ مہدی حسن کو بھارت لاکر ان کا علاج کیا جاسکے لیکن ان کی یہ حسرت دل میں ہی رہ گئی ۔ ملکہ ترنم نور جہاں مہدی حسن سے بہت عقیدت رکھتی تھیں اور انہوں نے ایک محفل میں تاریخی جملہ کہا تھا کہ ’’میں تو حیران ہو جاتی ہوں یہ سوچ کر کہ کوئی اتنا سر میں کیسے گاسکتا ہے جیسے مہدی حسن گا لیتے ہیں ‘‘۔ملکہ ترنم نور جہاں کا کہنا تھا کہ جب کوئی سر میں پیدا ہوتا ہے تو یقینااس کی پچھلی نسلوں میں سے کسی نے موتی دان کئے ہوتے ہیں ۔مہدی حسن  کا فن انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گا ۔ان کے مرقد پر موسیقی سے محبت کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے ۔